برلن ،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمن ارکان پارلیمان کا ایک وفد آج جمعہ آٹھ ستمبر کو ترکی کی ایک ایئر بیس کا دورہ کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد اس ایئر بیس پر تعینات جرمن فوجیوں سے ملاقات کرنا ہے۔ یہ معاملہ کئی ماہ سے نزاع کا باعث بنا ہوا تھا۔جرمن ارکان پارلیمان کے ایک گروپ کو ترکی میں قائم مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک ایئر بیس کے دورے کی اجازت دینے کا معاملہ ترکی اور جرمنی کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تناؤ کا باعث بنا ہوا تھا۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے سات ارکان کا ایک وفد آج جمعے کے روز ترکی کے وسطی علاقے میں قائم کونیا ایئر بیس کا دورہ کر رہا ہے۔ اس ترک ایئر بیس پر جرمنی کے قریب 30 فوجی تعینات ہیں۔ یہ فوجی تعیناتی نیٹو مشن کا حصہ ہے۔
جرمن چانسلر یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے ترکی کے ساتھ جاری مذاکرات کا خاتمہ چاہتی ہیں لیکن ان کے اس موقف کے خلاف فرانس، فن لینڈ اور لیتھوانیا جیسے ان کے اپنے ہی یورپی اتحادی ملک اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انقرہ حکومت کی طرف سے رواں برس جولائی میں جرمن ارکان پارلیمان کو کونیا ایئر بیس کے دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ انقرہ اور برلن کے تعلقات میں کشیدگی کو قرار دیا گیا تھا۔اس سے قبل جون میں جرمن حکومت نے ترکی کے انجرلیک ایئر بیس پر تعینات اپنے فوجیوں کو وہاں سے نکال کر انہیں اردن میں تعینات کر دیا تھا۔ اس کی وجہ بھی ترک حکومت کی طرف سے جرمن ارکان پارلیمان کو ملک کے جنوب مشرق میں واقع اس ایئر بیس کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینا تھا۔ اس سلسلے میں جرمن حکومت کی طرف سے متعدد بار کی گئی کوششوں کا ترک حکومت کی طرف سے منفی جواب ملا تھا۔جرمن فوجیوں کی اس تعیناتی کا مقصد دراصل امریکی سربراہی میں قائم اس فوجی اتحاد کو مدد فراہم کرنا ہے جو دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف شام اور عراق میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈی پی اے کے مطابق جرمن ارکان پارلیمان کے کونیا کے اس دورے کا معاملہ نیٹو کے سربراہ ژینس اشٹولٹن برگ کی مداخلت کے بعد طے پایا ہے۔ جرمن فوج خود کو پارلیمانی فوج قرار دیتی ہے یعنی فوج کی کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ جرمن پارلیمان میں ووٹنگ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے جرمن پارلیمان کی ایک دفاعی کمیٹی تمام غیر ملکی تعیناتیوں کا وقتا? فوقتا? جائزہ لیتی رہتی ہے۔